آصف علی زرداری
صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان
کا عید الاضحیٰ 1447ھ کے موقع پر پیغام
***
عید الاضحیٰ کے بابرکت موقع پر میں پاکستان کے عوام، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور امتِ مسلمہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ عید ہمیں اطاعتِ الٰہی، صبر، وفا، اخلاص اور ایثار کے اس عظیم جذبے کی یاد دلاتی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سیرتِ مبارکہ سے ہمیں ملتا ہے۔
عید الاضحیٰ ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ قربانی صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی پیغام ہےاور انسان کی اصل کامیابی مال و دولت، طاقت یا ظاہری شان میں نہیں، بلکہ تقویٰ، خلوص، خدمت اور انسانیت کے درد کو محسوس کرنے میں ہے۔
:رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا
أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ
الّلہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب انسان وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔
قربانی کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں میں دوسروں کے لیے جگہ پیدا کریں۔ عید کی خوشیاں اسی وقت مکمل ہوتی ہیں جب ہمارے اردگرد موجود محروم، مستحق، یتیم، بیوہ، بیمار، مزدور، معذور، بے سہارا اور سفید پوش افراد بھی ان خوشیوں میں شریک ہوں۔ ہمیں خاص طور پر اُن لوگوں کا خیال رکھنا ہے جو اپنی ضرورت کا اظہار نہیں کرتے اور خاموشی سے مشکلات برداشت کرتے ہیں۔
:نبی کریم ﷺ نے فرمایا
لَيْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَشْبَعُ وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَى جَنْبِهِ
وہ شخص کامل مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔
عید الاضحیٰ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قومی زندگی میں بھی قربانی، برداشت، نظم و ضبط، دیانت داری اور ایک دوسرے کے احترام کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب شہری اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھتے ہیں تو قومیں مضبوط ہوتی ہیں، ادارے مستحکم ہوتے ہیں اور معاشرے ترقی کرتے ہیں۔
آج ہمیں اس بات کا عہد کرنا ہے کہ ہم اختلافات کے باوجود قومی وحدت کو مقدم رکھیں گے۔ ہم نفرت اور تقسیم کے بجائے محبت، برداشت اور مکالمے کو فروغ دیں گے۔ ہم کمزور طبقوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے، قانون کا احترام کریں گے، اپنے ماحول کو صاف رکھیں گے، اور اپنے عمل سے پاکستان کو ایک مہذب، پُرامن اور باوقار ملک بنانے میں کردار ادا کریں گے۔
میں پاکستان کے نوجوانوں، خواتین، محنت کشوں، کسانوں، اساتذہ، علما، تاجروں، سرکاری ملازمین اور تمام طبقات سے کہتا ہوں کہ آپ میں سے ہر فرد اس ملک کی امید ہے۔ آپ کا ایک مثبت عمل، ایک مددگار ہاتھ، ایک دیانت دارانہ فیصلہ اور ایک خیر خواہی کا قدم ہمارے معاشرے کو بہتر بنا سکتا ہے۔ مایوسی کے اندھیروں کو خدمت، علم، محنت اور اتحاد کی روشنی سے شکست دی جا سکتی ہے۔
آئیے، اس عید الاضحیٰ پر ہم قربانی کو صرف ایک دن کی عبادت نہیں بلکہ پورے سال کے طرزِ عمل میں بدلنے کا عہد کریں۔ ہم اپنے دلوں میں رحم، اپنے رویوں میں شائستگی، اپنے گھروں میں محبت، اپنے معاشرے میں انصاف، اور اپنے وطن کے لیے وفاداری کو فروغ دیں۔
الّلہ تعالیٰ ہماری عبادات اور قربانیوں کو قبول فرمائے، ہمارے دلوں میں تقویٰ اور اخلاص پیدا فرمائے، مستحق افراد کی مشکلات آسان فرمائے، اور پاکستان کو امن، اتحاد، استحکام، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔
!پاکستان پائندہ باد
***