آصف علی زرداری
صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان
کا ہجری سال 1448ھ کے آغاز پر پیغام
***
میں پاکستان سمیت عالمِ اسلام کو نئے ہجری سال 1448ھ کے آغاز پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہجری سال کا آغاز ہمیں تاریخِ اسلام کے اس عظیم اور فیصلہ کن واقعے کی یاد دلاتا ہے جب نبی کریم ﷺ اور آپؐ کے جاں نثار صحابۂ کرامؓ نے الّلہ تعالیٰ کی رضا، دینِ حق کی سربلندی اور انسانیت کی فلاح کے لیے ہجرتِ مدینہ کا عظیم سفر اختیار کیا۔ یہ واقعہ قربانی، صبر، استقامت، اخوت، ایثار اور الّلہ تعالیٰ پر کامل توکل کا لازوال درس دیتا ہے۔
ہجرتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ قومیں صرف مادّی وسائل سے نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق، عدل، دیانت، اتحاد اور مشترکہ مقاصد سے ترقی کرتی ہیں۔ مدینہ منوّرہ میں قائم ہونے والی ریاست نے رواداری، قانون کی حکمرانی، انسانی مساوات، باہمی احترام اور فلاحِ عامّہ کی ایسی روشن مثال قائم کی جو آج بھی دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
نئے ہجری سال کے آغاز پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں برداشت، محبت، اخوت اور باہمی احترام کو فروغ دیں گے، فرقہ واریت، انتہا پسندی، نفرت اور تعصب سے اجتناب کریں گے اور پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کا گہوارہ بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
محرم الحرام کا مبارک مہینہ ہمیں نواسہِ رسولؐ، حضرت امام حسین رضی الّلہ تعالیٰ عنہ کی عظیم قربانیوں اور معرکہِ کربلا کے آفاقی اسباق کی یاد بھی دلاتا ہے۔ امام عالی مقام کا اسوہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنے ذاتی عمل کو اجتماعی شعور کے سانچے میں ڈھالیں اور وطنِ عزیز کو درپیش موجودہ معاشی و معاشرتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے غیر متزلزل یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ کربلا کا لازوال جذبہ ہمیں داخلی خلفشار اور مایوسی سے دور رکھ کر باہمی ہم آہنگی کا وہ درس دیتا ہے جس پر عمل کر کے ہمارا ملک ہر قسم کی آزمائش سے سرخرو ہو سکتا ہے۔
رسول الّلہ ﷺ نے فرمایا کہ مؤمنوں کی مثال ایک دوسرے کے ساتھ محبت، رحمت اور شفقت کرنے میں جسم کی طرح ہے، جب اس کا ایک حصہ بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم بےچینی اور بخار میں اس کے ساتھ شریک ہوجاتا ہے۔
ہمیں انفرادی و اجتماعی طور پر باہمی محبت، اخوت، ہمدردی، ایثار اور تعاون کے جذبے کو فروغ دینا ہوگا۔ اختلافات، تعصبات اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب ہم ایک جسم کی مانند متحد ہو کر ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے، کمزوروں کی مدد کریں گے اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس پیدا کریں گے تو پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ریاست بن سکے گا۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے قول و عمل سے محبت، رحم دلی اور یکجہتی کو فروغ دیں گے ۔ آئیے نئے ہجری سال کا استقبال اس عزم کے ساتھ کریں کہ ہم اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں گے، قانون کی پاسداری کریں گے، قومی یکجہتی کو مضبوط بنائیں گے اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔
الّلہ تعالیٰ نئے ہجری سال کو پاکستان، عالمِ اسلام اور پوری انسانیت کے لیے امن، برکت، رحمت اور خوشحالی کا سال بنائے۔ آمین
***