ISLAMABAD, Feb 07 (APP): Acting President Syed Yousuf Raza Gilani on Friday urged the youth to take lead of the Green Pakistan initiative through research, advocacy and innovation to ensure inclusive climate resilience at the national level.
In his keynote address at the closing session of Breathe Pakistan International Climate Change Conference, the acting president reaffirmed the country's commitment to address gravest challenges of climate change.
He said that Pakistan had endured devastating floods, droughts and glacier melting causing floods due to climate change despite it's least share to the global carbon emissions.
"Climate Change is a living reality. Pakistan needs support for technology transfer and capacity building to ensure climate resilience," he said.
Acting President Gilani mentioned that Pakistan had taken indigenous steps to contain climate change impacts on the region mainly renewable energy (RE) adoption like solar and hydropower projects to reduce reliance on fossil fuels.
The country, he said was also exploring climate finance and carbon markets to mobilize climate finance.
He underscored that early warning systems and disaster management frameworks were critical to protect communities.
The government, he said was holding dialogue with communities, provincial governments and development partners to ensure improved and holistic climate action.
He added that fight against climate change was not possible without global support and global commitment for international climate finance was critical to ensure access of least developed nations to climate finance for adaptation and mitigation.
"We need to equip the young change makers with skills, technology and knowledge to lead community level climate adaptation and mitigation efforts. Climate action is a movement that demands relentless commitment and devotion," he said.
Aban Marker Kabraje of UNEP said the speakers and experts rendered quality discourse, subject matter and knowledge in their speeches and addresses.
The interventions were rich full of enormous information required to address climate change, she added.
Folerence Roll, FAO Country Head presented the outcomes of the Breathe Pakistan Conference.
The conference provided a great opportunity to showcase how media can lead climate action, she said , adding, "The first outcome is on key aspect that climate change affects all aspects and components of society and multi sectoral and multidisciplinary action to address, encourage federal and provincial governments to join resources to address it."
She added that climate finance was the second important outcome and demanded Pakistan to mobilize international agenda on climate finance and enhance it's capacities of accessing climate finance.
The living Indus Initiative was a national project that addressed all provinces and the government was addressing it, she mentioned.
The Conference outcomes underlined that the fourth outcome was about women and girls who were the most affected due to climate change and look forward for specific measures to address specific strategy to address resilience building of women and girls.
It also demanded a transformation of the agricultural food system to enhance the quality and nutrition of food, and improve tree cover that have huge potential to mitigate and transform climate change impacts.
***
اسلام آباد،7فروری (اے پی پی):قائم مقام صدر، سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے10 ممالک میں شامل ہے، یہ غیر متناسب اثرات موسمیاتی مالیات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں فوری عالمی ذمہ داری اور مساوات کے متقاضی ہیں، نوجوان تحقیق، وکالت اور مشاہدے کے ذریعے گرین پاکستان منصوبے کی قیادت کریں ، ہمیں نوجوانوں کو پاکستان کو سبز معیشت کی طرف منتقل کرنے کے لئے ضروری آلات، تعلیم اور پلیٹ فارمز سے لیس کرنا ہوگا تاکہ قومی سطح پر ماحولیاتی استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے دو روزہ بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس کے دو روزہ اجتماع نے نہ صرف موسمیاتی اقدامات کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا بلکہ وقت کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمارے اجتماعی عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔
گزشتہ دو دنوں کے دوران ہم نے پاکستان اور دنیا کے پائیدار اور لچکدار مستقبل کو محفوظ بنانے، کاربن کے اخراج کو کم کرنے سے لے کر آب و ہوا کی مالی اعانت کو بڑھانے، قابل تجدید توانائی کے حل کو فروغ دینے اور کمیونٹی لچک کو مضبوط بنانے تک، مفصل، بصیرت افروز گفتگو ،پالیسی مباحثے اورافکارکا تبادلہ کیا ہے۔ اس کانفرنس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی صرف ماحولیاتی تشویش نہیں ہے بلکہ اقتصادی سلامتی، سماجی انصاف اور قومی خودمختاری کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ پاکستان موسمیاتی بحران میں فرنٹ لائن پر کھڑا ہے۔ ہم نے تباہ کن سیلاب، طویل خشک سالی، برفانی تودوں کے پگھلنے اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے نقصانات کو برداشت کیا ہے جس سے نہ صرف معاش بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ2022 کا تاریخ کا بدترین سیلاب، جس نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا اور اربوں کے معاشی نقصانات کا سبب بنا، نے اس بات کی واضح یاد دہانی کرائی کہ آب و ہوا کی تبدیلی کا خطرہ اب دور نہیں، یہ ہمارے لوگوں کے لئے ایک زندہ حقیقت ہے، عالمی سطح پر گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے۔
قائم مقام صدر نے کہا کہ یہ غیر متناسب اثر موسمیاتی مالیات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں فوری عالمی ذمہ داری اور مساوات کا متقاضی ہے، ہم پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی اور گرین انرجی ٹرانزیشن کے لئے اہم اقدامات کر چکے ہیں، شمسی توانائی، ہوا اور پن بجلی سمیت قابل تجدید توانائی کے حل کو فروغ دینا ،تاکہ فوسل ایندھن پر ہمارا انحصار کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ کی پالیسیوں اور مربوط واٹر گورننس کے ذریعے پاکستان میں پانی کی قلت کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے واٹر ریسورس مینجمنٹ ایک اور اہم مسئلہ ہے، گرین انفراسٹرکچر، گرین ٹیکسونومی اور کلائمیٹ اسمارٹ زراعت کی حمایت کے لئے جدید مالیاتی میکانزم کے ذریعے کلائمیٹ فنانس اور کاربن مارکیٹس کی بھی تلاش کی جارہی ہے۔ اور آخر میں آفات کے خطرے میں کمی (ڈی آر آر) پسماندہ طبقات کی حفاظت کے لئے پیشگی انتباہ کے نظام اور ہنگامی ردعمل کے فریم ورک کو مضبوط بناناہے۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ پاکستان کے قانون ساز ادارے کے نمائندے کی حیثیت سے ہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کرتے ہیں جن میں سرکاری ادارے، نجی شعبے کے رہنما، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی شراکت دار شامل ہیں تاکہ ان ماحولیاتی اقدامات پر عمل درآمد میں پالیسی ہم آہنگی، شفافیت اور احتساب کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یہ جنگ اکیلے نہیں لڑ سکتا، موسمیاتی انصاف کے اصول اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک پیرس معاہدے کے تحت 100 ارب ڈالر کے سالانہ ماحولیاتی فنانس کے وعدے کو پورا کرنے سے لے کر ترقی پذیر ممالک کے لئے ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی کو یقینی بنانے تک اپنے وعدوں کی پاسداری کریں، ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان وعدوں کو ٹھوس اقدامات میں تبدیل کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ پاکستان جیسے کمزور ممالک کو آب و ہوا کے لحاظ سے لچکدار مستقبل کی تعمیر کے لیے درکار معاونت حاصل ہو۔
انہوں نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور سرسبز مستقبل کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان صرف کل کے رہنما نہیں ہیں بلکہ آج کی تبدیلی کے محرک ہیں، ہمیں نوجوانوں کو پاکستان کو سبز معیشت کی طرف منتقل کرنے کے لئے ضروری آلات، تعلیم اور پلیٹ فارمز سے لیس کرنا ہوگا۔ ماحول دوست ٹیکنالوجی، پائیدار زراعت اور آب و ہوا کی صنعت کاری میں جدت طرازی اس تبدیلی کے کلیدی محرک ہوں گے۔ میں یہاں موجود تمام نوجوان ذہنوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ اس مشن کی ملکیت حاصل کریں ۔ چاہے وہ تحقیق، وکالت، یا پائیدار کاروباری منصوبوں کے ذریعے ہو، پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے جذبے اور وژن پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم اس کانفرنس کے اختتام پر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آب و ہوا سے متعلق اقدامات کوئی واقعہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جس کے لیے انتھک عزم، جرات مندانہ قیادت اور غیر متزلزل تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کانفرنس کو ایک اہم موڑ بنائیں جہاں خیالات پالیسیوں میں تبدیل ہوں، پالیسیاں عمل میں تبدیل ہوں اور اقدامات آب و ہوا کے لحاظ سے مضبوط پاکستان میں تبدیل ہوں، اس کانفرنس کو کامیاب بنانے پر ڈان میڈیا، منتظمین، ماہرین، بین الاقوامی شراکت داروں اور ان تمام شرکا کا تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔\932
***