آصف علی زرداری
صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان
کا یومِ عاشورہ (10 محرم الحرام 1448ھ) کے موقع پرپیغام
***
بسم الّلہ الرحمٰن الرحیم
یومِ عاشور اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور بامعنی دن ہے، جو ہمیں صبر، استقامت، ایثار، حق گوئی اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے۔ یہ دن کئی اہم تاریخی واقعات کی یاد تازہ کرتا ہے، تاہم تاریخِ اسلام میں اس کی سب سے نمایاں نسبت نواسۂ رسول حضرت امام حسین رضی الّلہ عنہ، اہلِ بیتِ اطہار اور ان کے رفقائے وفا کی اس عظیم قربانی سے ہے جو 61 ہجری میں میدانِ کربلا میں پیش آئی۔
واقعۂ کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ایک دائمی پیغام اور ایک زندہ درسگاہ ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے اپنے عمل سے امتِ مسلمہ کو یہ تعلیم دی کہ حق، عدل، دیانت اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دی جا سکتی ہے، لیکن باطل، ظلم اور ناانصافی کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی جدوجہد کا مقصد امت کی اصلاح اور دینِ محمدی ﷺ کی حقیقی اقدار کا تحفظ تھا۔
آج ہمیں بطور قوم یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم حضرت امام حسینؓ کی سیرت سے حق پسندی، اخلاقی جرأت، صبر و تحمل، ایثار اور خدمتِ خلق کے اوصاف کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔
میں تمام پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ عاشورہ کے ایام میں امن، رواداری، بین المسالک احترام اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دیں، افواہوں اور اشتعال انگیز رویّوں سے اجتناب کریں اور قومی وحدت و یکجہتی کے استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
الّلہ تعالیٰ ہمیں واقعۂ کربلا کے حقیقی پیغام کو سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اپنی زندگیوں کو حق، عدل، صبر اور تقویٰ کے اصولوں کے مطابق استوار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
پاکستان پائندہ باد
***