Asif Ali Zardari
President of the Islamic Republic of Pakistan
Message on the New Year- 1st January 2026
***
My fellow compatriots,
As we enter 2026 and the second quarter of this century, I convey my warm greetings to you, the people of Pakistan including our overseas Pakistanis and the international community.
As we approach our 79th Independence Day, it should be a moment for national soul-searching and collective resolve. Beyond individual New Year resolutions, we must recommit ourselves as custodians of Pakistan’s shared future.
We live in an era marked by wars and conflicts, proxy wars, extremism, xenophobia, populist fascism, out of control population growth, economic turbulence, climate emergency, food and water insecurity, disinformation, and extreme social polarisation. Pakistan is not immune to these challenges, but we are not helpless either. With unity, resilience, creativity and faith, we can overcome them.
The global landscape is shaped by inflation, supply chain disruptions, debt pressures, trade wars and competition over future technologies. Economic sovereignty demands discipline over denial, productivity over populism, exports over excuses and inclusive growth over crony capitalism. Investment in education, healthcare, youth, creativity, artificial intelligence and emerging technologies is essential for our survival and progress.
Climate change is no longer a distant threat; it is a national security challenge. Floods, droughts, water scarcity and extreme heat have become a new normal. Adaptation must advance alongside mitigation.
In an age of monetised disinformation and engineered polarisation, our strongest defence lies in critical thinking, media literacy, democratic tolerance and national cohesion. We must reject all forms of extremism and renounce violence in every form, whether religious, ethnic, political, ideological, armed, sectarian or digital.
I also wish to speak candidly about our internal political climate. Democracy thrives on disagreement conducted with civility and responsibility. Political expression must strengthen, not weaken, state institutions. I urge all political forces to engage constructively in Parliament for the betterment of the people. No political cause should allow itself to be exploited by hostile forces seeking to undermine Pakistan’s stability or sponsor terrorism. This is not the time to turn on the heat. It is the time to turn on the light.
As the symbol of the unity of the Federation, I remain ready to lead a process of national reconciliation and healing, to bridge divides, restore trust and bring all democratic forces firmly back onto the constitutional path. Pakistan needs cooperation, not confrontation.
Earlier this year, Pakistan faced a serious security challenge. The unity of our people and the professionalism of our armed forces ensured the defence of our sovereignty. Pakistan’s defence remains robust and credible. While we remain committed to peace, let there be no ambiguity: the defence of Pakistan is non-negotiable, and any existential threat will be met with full national resolve and might of 250 million Pakistanis.
I would also like to emphasise that weaponisation of water by India is not only a violation of an internationally recognised agreement but also of international law, and Pakistan reserves the right to address this issue through all possible means.
Pakistan will continue to act as a responsible member of the international community, a peacemaker and a stabilising force through bilateral and multilateral engagements. Pakistan remains ready to resolve all outstanding disputes with India peacefully, including the right of self-determination of the Kashmiri people, in accordance with international commitments. We also urge the de facto authorities in Afghanistan to honour the Doha Accord and ensure that Afghan soil is not used against neighbouring states.
As this new phase of the century unfolds, we hope for an end to global conflicts, including the Ukraine–Russia war. We reaffirm our unwavering support for the Palestinian people and their right to an independent, sovereign state with Al-Quds Al-Sharif as its capital.
Let this New Year be one of restraint over rage, unity over division and renewal over despair.
Pakistan Zindabad.
***
آصف علی زرداری
صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان
کا سال نو 2026 کے موقع پر پیغام
***
!میرے عزیز ہم وطنو
جیسے ہم سال 2026 اور رواں صدی کی دوسری چوتھائی میں داخل ہورہے ہیں، میں پاکستان کے عوام، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور عالمی برادری کو دلی مبارکباد اور نیک تمناؤں کا پیغام دیتا ہوں۔
جب ہم اپنے 79 ویں یومِ آزادی کے قریب پہنچ رہے ہیں تو یہ لمحہ قومی خود احتسابی اور اجتماعی عزم کا ہونا چاہیے۔ انفرادی نئے سال کے عہد سے آگے بڑھتے ہوئے ہمیں اجتماعی طور پر پاکستان کے مشترکہ مستقبل کے نگہبان ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کی تجدید کرنا ہوگی۔
ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جو جنگوں اور تنازعات، پراکسی جنگوں، انتہاپسندی، زینوفوبیا، عوامی جذبات پر مبنی فسطائیت، آبادی میں بے قابو اضافے، معاشی بے یقینی، ماحولیاتی ہنگامی صورتحال، خوراک اور پانی کے عدم تحفظ، غلط معلومات کے پھیلاؤ اور شدید سماجی تقسیم سے عبارت ہے۔ پاکستان ان چیلنجز سے محفوظ نہیں لیکن ہم بے بس بھی نہیں ہیں۔ اتحاد، استقامت، تخلیقی صلاحیت اور یقین کے ساتھ ہم ان مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں۔
آجکل عالمی منظرنامہ افراطِ زر، سپلائی چین میں رکاوٹوں، قرضوں کے دباؤ، تجارتی جنگوں اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر مسابقت سے تشکیل پا رہا ہے۔ یہ صورتحال معاشی خودمختاری سے انکار کی بجائے نظم و ضبط، عوامی نعروں کے بجائے پیداواریت کو مہمیز دینے، بہانوں کی بجائے برآمدات اور اقربا پروری کے بجائے جامع ترقی کا تقاضا کرتی ہے۔ تعلیم، صحت، نوجوانوں، تخلیقی شعبوں، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری ہماری بقا اور ترقی کےلئے ناگزیر ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اب کوئی دور دراز خطرہ نہیں رہی بلکہ ایک قومی سلامتی کا چیلنج بن چکی ہے۔ سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور شدید گرمی معمول بن چکے ہیں۔ ماحولیاتی مطابقت کو نقصانات کے ازالے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔
منافع خوروں کی ایما پر پراپیگنڈہ اور دانستہ سماجی تقسیم کے اس دور میں ہماری سب سے بڑی طاقت تنقیدی سوچ، ابلاغی فہم، جمہوری برداشت اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں ہے۔ ہمیں ہر قسم کی انتہاپسندی کو مسترد کرنا ہوگا اور تشدد کی ہر صورت سے لاتعلقی اختیار کرنا ہوگی، خواہ وہ مذہبی، نسلی، سیاسی، نظریاتی، مسلح، فرقہ وارانہ یا ڈیجیٹل ہو۔
میں اپنی داخلی سیاسی صورتحال پر بھی کھل کر بات کرنا چاہتا ہوں۔ جمہوریت اختلافِ رائے میں پنپتی ہے مگر شائستگی اور ذمہ داری کے ساتھ۔ سیاسی اظہار کو ریاستی اداروں کو مضبوط بناناے میں معاون ہونا چاہیے، کمزور کرنا نہیں۔ میں تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عوام کی بہتری کےلئے پارلیمان میں تعمیری کردار ادا کریں۔ کوئی بھی سیاسی مقصد دشمن قوتوں کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا چاہیے جو پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانا یا دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کے درپے ہیں۔ یہ وقت ماحول میں شدت اور حرارت پیدا کرنے کا نہیں بلکہ روشنی پیدا کرنے کا ہے۔
وفاق کی وحدت کی علامت کے طور پر، میں قومی مفاہمت اور مصالحت کے عمل کی قیادت کے لیے تیار ہوں تاکہ فاصلے کم کئے جائیں، اعتماد بحال ہو اور تمام جمہوری قوتوں کو آئینی راستے پر واپس لایا جائے۔ پاکستان کو محاذ آرائی نہیں، تعاون کی ضرورت ہے۔
اس سال کے اوائل میں پاکستان کو ایک سنگین سلامتی کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام کے اتحاد اور ہماری مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت نے ہماری خودمختاری کا دفاع یقینی بنایا۔ پاکستان کا دفاع مضبوط اور انتہائی قابلِ بھروسہ ہے۔ اگرچہ ہم امن کے خواہاں ہیں لیکن اسے نہ ہماری کمزوری سمجھا جائے اور نہ اس میں کوئی ابہام ہونا چاہیے۔ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے اور کسی بھی وجودی خطرے کا بھرپور قومی عزم اور 25 کروڑ پاکستانیوں کی طاقت سے جواب دیا جائے گا۔
میں اس امر پر بھی زور دینا چاہتا ہوں کہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا نہ صرف ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معاہدے بلکہ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان اس مسئلہ کو تمام ممکنہ ذرائع سے اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
پاکستان عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن، امن کے داعی اور استحکام کے ضامن کے طور پر دوطرفہ اور کثیرالجہتی روابط کے ذریعے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور بشمول کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو بین الاقوامی وعدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے کےلئے تیار ہے۔ ہم افغانستان کے ڈی فیکٹو حکام سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دوحہ معاہدے کی پاسداری کریں اور افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
اس صدی کی دوسری چوتھائی کے آغاز پر ہم یوکرین۔روس جنگ سمیت تمام عالمی تنازعات کے خاتمے کی امید رکھتے ہیں۔ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور ان کے اس حق کی بھرپور تائید کرتے ہیں کہ وہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست قائم کریں جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
دعا ہے کہ یہ نیا سال غصے کی بجائے تحمل، تقسیم کی بجائے اتحاد اور مایوسی کی بجائے امید کی تجدید کا سال ہو۔
پاکستان زندہ باد۔
***