صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب آصف علی زرداری کا قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 77ویں برسی کے موقع پر پیغام - 11 ستمبر، 2025

آصف علی زرداری
صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان
کا قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 77ویں برسی کے موقع پر پیغام - 11 ستمبر، 2025

***

آج، قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 77ویں برسی کے موقع پر ہم پاکستان کے بانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں—ایسے عظیم رہنما جن کی غیر معمولی بصیرت، غیر متزلزل عزم، اور اصولی قیادت نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ آج ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن قائم کیا، جہاں ہم اپنی زندگیوں کو اپنے عقائد، امنگوں اور اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھال سکتے ہیں، اور سماجی و معاشی انصاف کے اصولوں کو فروغ دے سکتے ہیں۔
قائداعظم نے صرف ایک ملک قائم نہیں کیا، بلکہ ایک قوم کو اس کی شناخت، عزت اور آزادی سے جینے کا حق دیا۔ وہ ایک ایسے پاکستان کا خواب رکھتے تھے جو انصاف، مساوات، رواداری اور جمہوریت کی بنیادوں پر قائم ہو۔ اُن کا خواب ایک ترقی پسند، جامع اور مستقبل کی جانب گامزن ریاست کا تھا—جہاں ہر شہری، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو، برابر کے حقوق اور مواقع سے مستفید ہو۔
آج بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے ساتھ آر ایس ایس کے زیر اثر حکومت کے سلوک نے ایک بار پھر اس حقیقت کو آشکار کر دیا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا پیش کردہ دو قومی نظریہ بالکل درست تھا۔ خود بھارت کی اقلیتیں اس امر کو تسلیم کر رہی ہیں کہ ان کے مذہبی، سیاسی اور سماجی حقوق اب محفوظ نہیں رہے۔ یہ حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا قیام ایک تاریخی اور ناگزیر فیصلہ تھا۔
آج پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ ہمیں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں معاشی مشکلات، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، سماجی ناہمواری، انتہا پسندی، اور ادارہ جاتی اصلاحات کی اشد ضرورت شامل ہے۔ تاہم ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم پہلی نسل نہیں جو آزمائش سے گزر رہی ہے۔ ہمیں تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنان، خصوصاً قائداعظم سے حوصلہ اور رہنمائی حاصل کرنی چاہیے، جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں اتحاد، عزم، اور مقصد کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔
آئیے اس دن ہم اپنے عزم کا اعادہ کریں کہ ہم اُس پاکستان کی تعمیر کریں گے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا—ایک جمہوری ریاست، جہاں قانون کی حکمرانی ہو، اور ادارے عوام کے سامنے جوابدہ ہوں۔ ہمیں ایک ایسا ملک بنانا ہے جہاں کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے—جہاں ہمارے نوجوانوں کے لیے مواقع ہوں، خواتین بااختیار ہوں، اور اقلیتوں کو مکمل عزت و تحفظ حاصل ہو۔
یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، اور قائداعظم کے رہنما اصول—اتحاد، ایمان اور قربانی—ہمیں اس سفر میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ قائد کے نظریات آج بھی اُتنے ہی اہم اور مؤثر ہیں جتنے 1947 میں تھے۔ اگر ہم اُن کے وژن کو خلوصِ نیت اور عملی اقدامات کے ذریعے اپنائیں، تو کوئی چیلنج ایسا نہیں جس پر قابو نہ پایا جا سکے۔
مجھے یقین ہے کہ اگر ہم قائداعظم کی تعلیمات پر عمل کریں، تو ہم ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان بنا سکتے ہیں۔ ان شاء اللہ۔

***

Accessibility Tools
Increase Font

Decrease Font

High Contrast

Negative Contrast

Light Background

Links Underline

GrayScale

Readable Fonts

Reset