President Arif Alvi's Message on Kashmir Solidarity Day i.e., 5th February 2024

Dr Arif Alvi

President of the Islamic Republic of Pakistan

Message on the occasion of Kashmir Solidarity Day i.e., 5th February 2024

***

The people of the Indian Illegally Occupied Jammu and Kashmir (IIOJK) have been struggling to realise their right to self-determination for the last seventy-six years. On this Kashmir Solidarity Day, the Government and people of Pakistan renew their unflinching support for their just and legitimate struggle.

The right to self-determination is a cardinal principle of international law. The UN General Assembly annually adopts a resolution expressing unequivocal support for the realisation of the right to self-determination for people under foreign occupation. Regrettably, the Kashmiri people have not been able to exercise this inalienable right.

Today, IIOJK is one of the most militarized zones in the world. Kashmiris are living in an environment of fear and intimidation. The Indian occupation forces are engaged in indiscriminate use of force against civilians. Political activists and human rights defenders face arbitrary detention and confiscation of properties. The political parties, representing the genuine aspirations of the Kashmiri people, are being banned. These oppressive measures are aimed at crushing dissent in IIOJK.

India is also taking steps to consolidate its occupation of IIOJK. Following its illegal and unilateral actions of 5 August 2019, India's efforts have been aimed at engineering demographic and political changes so that the Kashmiris are transformed into a disempowered community in their own land. The Indian Supreme Court's judgement of 11 December 2023 is yet another manifestation of India's desire to undermine the right to self-determination of the Kashmiri people.

India must end its gross human rights violations in IIOJK; reverse its unilateral and illegal actions of 5 August 2019; repeal draconian laws; allow UN-mandated investigations into cases of human rights violations, and implement the relevant UN Security Council resolutions on Jammu and Kashmir.

I wish to reiterate that seeking a just resolution of the Jammu and Kashmir dispute will remain a key pillar of our foreign policy. Pakistan will continue to lend unstinted moral, diplomatic and political support to the Kashmiri people till the realisation of their right to self-determination, as enshrined in the relevant UN Security Council resolutions.

***

ڈاکٹر عارف علوی

صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان

کا یوم ِیکجہتی کشمیر ، 5 فروری 2024 ء ، کے موقع پر پیغام

٭٭٭

گزشتہ 76 برسوں سے غیرقانونی طور پر بھارتی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام اپنے حق خودارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس یوم ِیکجہتی کشمیر کےموقع پر پاکستانی حکومت اور عوام کشمیریوں کی منصفانہ اور جائز جدوجہد کیلئے اپنی غیر متزلزل حمایت کی تجدید کرتے ہیں۔

حق خود ارادیت بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے۔ غیر ملکی قبضے کے تحت لوگوں کے حقِ خود ارادیت کے حصول کی واضح حمایت کے اظہار کیلئے اقوام ِمتحدہ کی جنرل اسمبلی ہر سال ایک قرارداد منظور کرتی ہے ۔ یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ کشمیری عوام اس ناقابل ِتنسیخ حق سے ابھی تک محروم ہیں۔

آج، مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ عسکریت زدہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ کشمیری عوام ایک خوف اور دہشت کے ماحول میں جی رہے ہیں۔ قابض بھارتی افواج نے کشمیری شہریوں کے خلاف طاقت کے اندھا دھند استعمال کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو بے جا حراست اور جائیدادوں کی ضبطی کا سامنا ہے۔ کشمیری عوام کی حقیقی امنگوں کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ ان تمام جابرانہ اقدامات کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں اختلاف رائے کو کچلنا ہے۔

بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کیلئے بھی اقدامات کر رہا ہے۔ 5 اگست 2019 ء کے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد، بھارتی کوششوں کا مقصد آبادیاتی  اور سیاسی تبدیلیاں لانا ہے تاکہ کشمیریوں کو اپنی ہی سرزمین میں ایک بے اختیار کمیونٹی میں بدل دیا جائے۔ بھارتی سپریم کورٹ کا 11 دسمبر 2023 ء کا فیصلہ کشمیری عوام کے حق ِخود ارادیت کو دبانے کی بھارتی خواہش کا ہی ایک مظہر ہے۔

بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کرنا ہوں گی اور 5 اگست 2019 ءکے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو واپس لینا ہوگا۔  بھارت کو ظالمانہ قوانین کو منسوخ کرنا ہوگا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں اقوام ِمتحدہ کی جانب سے منظور شدہ تحقیقات کی اجازت دینا ہوگی اور جموں و کشمیر پر اقوام ِمتحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کرانا ہوگا۔

میں اس امر کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ تنازعہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل  ہماری خارجہ پالیسی کا کلیدی ستون رہے گا۔ پاکستان اقوام ِمتحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں  کے مطابق کشمیری عوام کے حق ِخودارادیت کے حصول تک ان کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا ۔

٭٭٭

Accessibility Tools
Increase Font

Decrease Font

High Contrast

Negative Contrast

Light Background

Links Underline

GrayScale

Readable Fonts

Reset