Message of President Asif Ali Zardari on the First Anniversary of Maarka-e-Haq

Asif Ali Zardari
President of the Islamic Republic of Pakistan
Message on the First Anniversary of Maarka-e-Haq  - 10th  May2026

***

One year ago, Pakistan was put to the test, and it did not blink.
The events of April and May last year were not simply a military episode. They were a moment of national reckoning. When India, under the guise of the Pahalgam false flag operation, launched unprovoked strikes on our soil, targeting mainly civilian areas besides military installations, Pakistan responded with discipline, precision, courage and unity. Operation Bunyan-um-Marsoos, the decisive centrepiece of Maarka-e-Haq, demonstrated what our armed forces are capable of when the country stands behind them as one. Our response was calibrated, measured, precise and proportionate. Our message was unambiguous.
Maarka-e-Haq showed the world that Pakistan's deterrence is not a slogan. It rests on professional competence, tri-service coordination and the resolve of a people who shall not accept aggression lying down. We salute our men and women in uniform and we bow our heads in honour of every martyr who gave their life so that this nation could stand tall. It is part of our DNA that when a war is imposed on us, every Pakistani becomes a soldier, some in uniform and most without.
Pakistan today is recognised as a state that not only knows how to defend itself but also serves as a guarantor of peace and stability. In the context of recent tensions in West Asia, Pakistan, through responsible and balanced diplomacy, played a key role in facilitating a ceasefire between the United States and Iran and bringing both sides to the negotiating table. Our efforts helped avoid further bloodshed and contributed to stabilising the broader regional environment. Pakistan will continue its efforts to promote peace, dialogue and stability wherever it can make a difference.
I would like to take this opportunity to reiterate that the Kashmir dispute remains the root cause of instability in this region. No honest account of South Asia's security challenges can avoid that truth. The aspirations of the Kashmiri people, enshrined in United Nations Security Council resolutions, have not been extinguished by decades of occupation. They shall not be. Pakistan's commitment to a just and lawful resolution remains unchanged.
India's suspension of the Indus Waters Treaty is tantamount to weaponisation of water. The Treaty, brokered by the World Bank and signed in 1960, has survived four wars and sixty-five years of bitter rivalry between two nuclear-armed neighbours. It was designed to be beyond the reach of political crises. India's decision to put it in abeyance, without any legal basis for unilateral suspension, is a threat to the livelihoods of millions. Water is not a bargaining chip. Pakistan shall defend its water rights with the same resolve it has shown in defence of its territory.
We also reiterate our position on terrorism with complete clarity. Pakistan is a victim of terrorism. We remain determined to root out the Fitna al-Khawarij and Fitna al-Hindustan in all their manifestations. We have engaged the Afghan de facto authorities with seriousness and expect that commitments made under the Doha framework, that Afghan territory will not be used against Pakistan or any other state, are honoured fully.
Pakistan seeks no conflict. But it shall never accept thuggish, coercive behaviour. We are committed to sovereignty, to international law, and to a stable region where differences are resolved through dialogue rather than domination.
Maarka-e-Haq is now etched into our national consciousness. It was not a moment we sought, but the one we met with everything we had. Let it stand, each year, as a reminder that a nation which knows its worth will always find the strength to defend it.


***

آصف علی زرداری
 صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان
کا معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر  پیغام

***

ایک سال پہلے پاکستان ایک بڑے امتحان سے گزرا اور پوری قوم ثابت قدم رہی۔

گزشتہ سال مئی کے مہینے کے واقعات صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھے بلکہ پوری قوم کے لیے ایک اہم لمحہ تھے۔ بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں پاکستان پر بلا اشتعال حملے کیے، جن میں کچھ  فوجی تنصیبات کے ساتھ زیادہ تر شہری آبادی اور عبادتگاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس موقع پر پاکستان نے نظم و ضبط، درست حکمتِ عملی، بہادری اور قومی اتحاد کے ساتھ جواب دیا۔ آپریشن بنیانٌ المّرصوص نے ، جو معرکہِ حق کا اہم ترین ستون تھا، دنیا کو دکھایا کہ جب پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو تو ہماری مسلح افواج کیا کچھ کر سکتی ہیں۔ ہمارا جواب سوچا سمجھا، متوازن، متناسب، درست اور صورتحال کے عین مطابق تھا۔ ہمارا پیغام بالکل واضح تھا۔

معرکۂ حق نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ پیشہ ورانہ مہارت، تینوں افواج کی مربوط حکمت عملی اور اس قوم کے اس عزم  پر قائم ہے جو کبھی جارحیت کے سامنے سر نہیں جھکاتی۔ ہم اپنی بہادر افواج کے مرد و خواتین کو سلام پیش کرتے ہیں اور ہر اُس شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جس نے اس وطن کی سربلندی کے لیے اپنی جان قربان کی۔ یہ ہماری قومی سوچ کا حصہ ہے کہ جب ہم پر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو ہر پاکستانی سپاہی بن جاتا ہے جن میں کچھ تو وردی میں ہوتے ہیں اور زیادہ تر بغیر وردی کے۔

آج پاکستان کو ایک ایسی ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو نہ صرف اپنا دفاع کرنا جانتی ہے بلکہ امن اور استحکام کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مغربی ایشیا میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے ذمہ دارانہ اور متوازن سفارت کاری کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز تک لانے میں بھی مدد دی ہے۔ہماری کوششوں نے مزید خونریزی روکنے اور خطے میں استحکام پیدا کرنے میں مدد دی ہے۔ پاکستان جہاں بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے، وہاں امن، مذاکرات اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

میں اس موقع پر ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مسئلۂ کشمیر اس خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔ جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی کے مسائل کا کوئی بھی غیرجانبدار جائزہ پاکستان کے کردار کی اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ کشمیری عوام کی خواہشات، جنہیں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے، دہائیوں کے قبضے کے باوجود ختم نہیں ہوئیں اور نہ ہی کبھی ہوں گی۔ پاکستان ایک منصفانہ اور قانونی حل کے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے مترادف ہے۔ عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا یہ معاہدہ، جو 1960 میں ہوا، چار جنگوں اور پینسٹھ برس کی تلخ کشیدگی کے باوجود قائم رہا۔ اس معاہدے کو سیاسی تنازعات سے بالاتر رکھا گیا تھا۔ بھارت کا بغیر کسی قانونی جواز کے اسے معطل کرنا لاکھوں لوگوں کے روزگار اور زندگیوں کے لیے خطرہ ہے۔ پانی کوئی ایسا معاملہ نہیں جسے سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کیا جائے۔ پاکستان اپنے آبی حقوق کے دفاع کے لیے اسی عزم کا مظاہرہ کرے گا جو اس نے اپنی سرزمین کے دفاع میں دکھایا ہے۔

ہم دہشت گردی کے بارے میں بھی اپنا مؤقف پوری وضاحت سے دہراتے ہیں۔ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ ہم فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو ہر شکل میں ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ہم نے افغانستان کی موجودہ عبوری حکومت کے ساتھ سنجیدگی سے رابطے کیے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ دوحا فریم ورک کے تحت کیے گئے وعدوں پر مکمل عمل ہوگا تاکہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔

پاکستان کسی تنازعے کا خواہاں نہیں۔ لیکن پاکستان کبھی دھونس اور دادا گیری کے رویے کو قبول نہیں کرے گا۔ ہم اپنی خودمختاری، بین الاقوامی قانون، اور ایک ایسے پُرامن خطے کے لیے پُرعزم ہیں جہاں اختلافات طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل ہوں۔

معرکۂ حق اب ہماری قومی یادداشت کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ کوئی ایسا لمحہ نہیں تھا جسے ہم نے خود چُنا ہو، لیکن جب وقت آیا تو پوری قوم نے اپنی تمام تر صلاحیت اور عزم کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا۔ یہ دن ہر سال ہمیں یاد دلاتا رہے کہ جو قوم اپنی قدر پہچانتی ہے، وہ اپنے دفاع کی طاقت بھی ہمیشہ رکھتی ہے۔

***

Accessibility Tools
Increase Font

Decrease Font

High Contrast

Negative Contrast

Light Background

Links Underline

GrayScale

Readable Fonts

Reset